الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ حُكْمِ الْوَلِيمَةِ وَاسْتِحْبَابِهَا بِالشَّاةِ فَأَكْثَرَ وَجَوَازِهَا بدونها باب: ولیمہ کے حکم، بکری یا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7034
عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلًا يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ الْعَرُوسُ قَالَ تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْقَعَتْ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو اسید ساعدی آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شادی میں آنے کی دعوت دی، اس دن ان کی بیوی ان کی خادمہ تھی، اسی کی شادی ہوئی تھی، کہتے ہیں :اچھا کیا تم جانتے ہو کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا پلایا تھا، اس نے رات کو ایک برتن میں کھجوریں بھگو رکھی تھیں، (وہ نبیذ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پلایا تھا)۔