حدیث نمبر: 7027
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَكُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِيُكَلِّمَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ إِنَّهُ زَوْجُكِ فَقَالَتْ تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ قَالَ فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ عَبْدًا لِآلِ الْمُغِيرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب بریرہ کو اختیار ملا تو میں نے دیکھا کہ اس کا خاوند مدینہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھرتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہتے تھے، کسی نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے بات کی کہ بریرہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: بریرہ! یہ تیرا خاوند ہے۔ سیدہ بریرہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو سفارش کر رہا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اختیار دیا اور اس نے یہ اختیار قبول کر لیا، ان کا خاوند آل مغیرہ کا غلام تھا۔

وضاحت:
فوائد: … لِیُکَلِّمَ فِیْہِ النَّبِیَّV لِبَرِیْرَۃَ: ((إِنَّہُ زَوْجُکِ۔))، ان الفاظ کی ترکیب صحیح نہیںبن رہی، اگر سنن ابو داود کے الفاظ کو سامنے رکھا جائے معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اصل ترکیب اس طرح یا اس سے ملتی جلتی تھی: قَالَ النَّبِیَّV لِبَرِیْرَۃَ: ((إِنَّہُ زَوْجُکِ۔))، ہم نے اسی ترکیب کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔
اس باب سے ثابت ہوا کہ جب غلام اور لونڈی شادی والی زندگی گزار رہے ہوں اور لونڈی کو آزاد کر دیا جائے تو اس کو اس غلام خاوند کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار مل جاتاہے، جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو یہ اختیار ملا تو انھوں نے جدائی کو ترجیح دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7027
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5283 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1844 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1844»