الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بيانُ خِيَارِ الأَمَةِ بَعْدَ عِتْقِهَا إِذَا كَانَتْ زَوْجَةَ عَبْدٍ باب: آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو اختیار مل جانے کا بیان، جب وہ کسی غلام کی بیوی ہو
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَكُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِيُكَلِّمَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ إِنَّهُ زَوْجُكِ فَقَالَتْ تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ قَالَ فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ عَبْدًا لِآلِ الْمُغِيرَةِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب بریرہ کو اختیار ملا تو میں نے دیکھا کہ اس کا خاوند مدینہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھرتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہتے تھے، کسی نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے بات کی کہ بریرہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: بریرہ! یہ تیرا خاوند ہے۔ سیدہ بریرہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو سفارش کر رہا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اختیار دیا اور اس نے یہ اختیار قبول کر لیا، ان کا خاوند آل مغیرہ کا غلام تھا۔
اس باب سے ثابت ہوا کہ جب غلام اور لونڈی شادی والی زندگی گزار رہے ہوں اور لونڈی کو آزاد کر دیا جائے تو اس کو اس غلام خاوند کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار مل جاتاہے، جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو یہ اختیار ملا تو انھوں نے جدائی کو ترجیح دی۔