الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بيانُ خِيَارِ الأَمَةِ بَعْدَ عِتْقِهَا إِذَا كَانَتْ زَوْجَةَ عَبْدٍ باب: آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو اختیار مل جانے کا بیان، جب وہ کسی غلام کی بیوی ہو
حدیث نمبر: 7025
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا قَالَتْ وَكَانَتْ أَيْ بَرِيرَةُ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقْتُهَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَارِي فَإِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْكُثِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ وَإِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِيهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، بیچ میں ایک بات یہ تھی: سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ایک غلام کی بیوی تھی، جب میں (عائشہ) نے اس کو آزاد کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تجھے اختیار مل گیا ہے، اگر تو چاہے تو اس غلام کے ماتحت رہ سکتی ہے اور چاہے تو علیحدہ ہو سکتی ہے۔