حدیث نمبر: 7018
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ إِسْلَامُهَا قَبْلَ إِسْلَامِهِ بِسِتِّ سِنِينَ عَلَى النِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ شَهَادَةً وَلَا صَدَاقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پہلے نکاح کے ساتھ ہی ان کے خاوند سیدنا ابو عاص بن ربیع کی طرف لوٹا دیا، حالانکہ سیدہ اپنے خاوند سے چھ سال پہلے مسلمان ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ نئی گواہی پیش کی اور نہ نئے مہر کا مطالبہ کیا۔

وضاحت:
فوائد: … جب کوئی خاتون مسلمان ہو جائے، جبکہ اس کا خاوند ابھی تک کافر ہو تو اس کی عدت ایک حیض ہو گی، اس عدت کے بعد وہ کسی سے شادی کر سکتی ہے، لیکن اگر شادی کرنے سے پہلے اس کا شوہر بھی مسلمان ہو جائے تو ان کو سابق نکاح اور مہر کی بنیاد پر ہی میاں بیوی سمجھا جائے گا، نئے نکاح کی ضرورت نہیں ہو گی، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا، اگر ایسی خاتون عدت گزانے کے بعد اور خاوند کے مسلمان ہونے سے پہلے شادی کر لیتی ہے تو پہلے خاوند کا حق ختم ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7018
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2366»