الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ مَنْ أَسْلَمَ وَتَحْتَه أَخْتَانِ أَوْ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ وَفِيهِ الْعَدَدُ الْمُبَاحُ لِلْحُرِ وَالْعَبْدِ وَمَا خُصَّ بِهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم باب: اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاصے کا بیان
حدیث نمبر: 7016
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي امْرَأَتَانِ أُخْتَانِ فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُطَلِّقَ إِحْدَاهُمَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: جب میں اسلام لایا تو میری دو بیویاں تھیں اور وہ دونوں بہنیں تھیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ایک کو طلاق سے دوں۔
وضاحت:
فوائد: … دو بہنوں کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ} … ’’(اور تم پر حرام کیا گیا ہے کہ) تم دو بہنوں کو جمع کرو۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۳)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی مرضی کے مطابق کسی ایک کو اختیار کر سکتا ہے، یہ شرط نہیں ہے کہ اس نے دو بہنوں میں سے جس سے پہلے نکاح کیا تھا، اس کو ہی اپنے عقد میں برقرار رکھے۔
امام ابو حنیفہiکا نظریہیہ ہے کہ دو بہنوں کی صورت میں اس بہن کو جدا کر دیا جائے گا، جس سے بعد میں نکاح ہوا تھا اور چار سے زائد بیویوں کی صورت میں ان بیویوں کو الگ کر دیا جائے گا، جن سے چار کی تعداد کی تکمیل کے بعد نکاح ہوا تھا۔
لیکن مذکورہ بالا روایات میںیہ قید اور شرط نہیں پائی جاتی، لہذا خاوند کو اختیار حاصل ہے، وہ جسے چاہے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی مرضی کے مطابق کسی ایک کو اختیار کر سکتا ہے، یہ شرط نہیں ہے کہ اس نے دو بہنوں میں سے جس سے پہلے نکاح کیا تھا، اس کو ہی اپنے عقد میں برقرار رکھے۔
امام ابو حنیفہiکا نظریہیہ ہے کہ دو بہنوں کی صورت میں اس بہن کو جدا کر دیا جائے گا، جس سے بعد میں نکاح ہوا تھا اور چار سے زائد بیویوں کی صورت میں ان بیویوں کو الگ کر دیا جائے گا، جن سے چار کی تعداد کی تکمیل کے بعد نکاح ہوا تھا۔
لیکن مذکورہ بالا روایات میںیہ قید اور شرط نہیں پائی جاتی، لہذا خاوند کو اختیار حاصل ہے، وہ جسے چاہے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔