الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ مَنْ تَجُوزُ شَهَادَتْهُ فِي الرَّضَاعَةِ باب: اس چیز کا بیان کہ رضاعت میں کس کی شہادت جائز ہو گی
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَتَنَحَّيْتُ فَذَكَرْتُهُ لَهُ فَقَالَ فَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا وَفِي لَفْظٍ فَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ فَنَهَاهُ عَنْهَا۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے ام یحیی بنتِ ابی اہاب سے شادی کی، لیکن ایک سیاہ فام عورت نے آ کر کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، پھر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا، میں بھی اس جانب ہو گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کیا کریں، جبکہ اس کا خیال ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اب کیا کریں،جبکہ دودھ پلانے کی بات کہی جا چکی ہے۔
رضاعت ایک پوشیدہ چیز ہے، اس کے گواہ ممکن نہیں، نہ ایسے مواقع پر گواہ بنائے جاتے ہیں، لہذا رضاعت پر گواہی طلب کرنا فضول ہے، مُرضِعہ کی بات کو معتبر سمجھا جائے گا، جس طرح پیدائش کے بارے میں دائی کی بات ہی معتبر ہوتی ہے اور اس سے گواہ طلب نہیں کیے جاتے، ان مواقع پر گواہی کو ضروری قرار دینا بہت سییقینی باتوں کو جھٹلانے کے مترادف ہو گا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکاح فسخ کرنے کا حکم دے دیا۔
امام ابو حنیفہ نے اس سلسلے میں دو مردوں اور دو عورتوں کی شہادت کو ضروری قرار دیا ہے، لیکن مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ سے یہ قید ثابت نہیں ہوتی۔