حدیث نمبر: 6974
عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلَالِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي سَفَرٍ فَوَلَدَتِ امْرَأَتُهُ فَاحْتُبِسَ لَبَنُهَا، فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ فَدَخَلَ حَلْقَهُ فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَقَالَ: حُرِّمَتْ عَلَيْكَ، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلَّا مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَأَنْشَرَ الْعَظْمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو موسیٰ ہلالی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی سفر میں تھا، اس کی بیوی نے بچہ جنا، لیکن اس کا دودھ رک گیا، اس لیے اس آدمی نے اس کا دودھ چوسنا اور پھر منہ سے باہر پھینکنا شروع کر دیا، (تاکہ دودھ رواں ہو جائے)، لیکن ہوا یوں کہ کچھ دودھ اس کے حلق میں اتر گیا، پس وہ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، انھوں نے کہا: تیری بیوی تو تجھ پر حرام ہو چکی ہے، پھر وہ آدمی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رضاعت اس وقت تک حرام نہیں کرتی، جب تک وہ گوشت نہ اگائے اور ہڈیوں کو مضبوط نہ کرے۔

وضاحت:
فوائد: … بچہ مدت ِ رضاعت میں جو دودھ پیتا ہے، اس سے اس کا گوشت اگتا ہے اور اس کی ہڈیاں بڑتی اور مضبوط ہوتی ہیں، اس طرح سے وہ دودھ پلانے والی کا ایسا جزو بن جاتا ہے، جیسے وہ اپنے والدین کا جزو ہوتاہے اور یہی حرمت کی وجہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 6974
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بشواھده، أخرجه ابوداود: 2060، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4114»