الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّضَاعِ الَّذِي لَا يَحْصُلُ بِهِ التَّحْرِيمُ باب: رضاعت کی وہ مقدار جس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 6973
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ شَقَّ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوگیا، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ کو یہ بات سخت ناگوار گزری، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا رضاعی بھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا غور کر لو کہ تمہارے بھائی کون ہیں، رضاعت تو بھوک سے ثابت ہوتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخری جملے کامطلب یہ ہے کہ جب بچہ اتنا چھوٹا ہو کہ اس کی خوراک صرف دودھ بن سکتا ہو تو اس عمر میں دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے اور مدت ِ رضاعت دو سال ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِکَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَاَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ} … ’’اور مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں، جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۳) مدت رضاعت زیادہ سے زیادہ دو سال ہے۔