الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ عَدَدِ الرَّضْعَاتِ الْمُحَرِّمَةِ وَمَا جَاءَ فِي رَضَاعَةِ الكبير باب: حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان
حدیث نمبر: 6972
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ، فَقَالَ: ((أَرْضِعِيهِ))، فَقَالَتْ: كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((أَلَسْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟)) ثُمَّ جَاءَتْ فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا أَكْرَهُهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! جب سالم میرے پاس داخل ہوتا ہے تو مجھے اپنے خاوند سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر تبدیلی نظر آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تواسے دودھ پلا دے۔ اس نے کہا: میں اس کو کیسے دودھ پلاؤں، وہ اتنا بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسنے لگے اور فرمایا: کیا میں نہیں جانتا کہ وہ بڑا ہے۔ پھر جب وہ آئی تو اس نے کہا:اب حذیفہ کے چہرے میں کوئی کراہت نظر نہیں آتی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بڑا اہم مسئلہ ہے اور اس میں غورو فکر کی ضرورت ہے۔سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کو متبنّٰی (منہ بولا بیٹا) بنا رکھا تھا، وہ گھر میں بیٹوں کی طرف رہتا اور آتا جاتا تھا، جب یہ حکم اترا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹوں کی طرح نہیں ہیں اور نہ ان پر حقیقی بیٹوں کے احکام لاگو ہوتے ہیں، تو اب اس سے پردہ فرض ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشکل کو یوں حل کیا کہ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا، سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کو پانچ بار دودھ پلا دے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نظریہیہ تھا کہ جہاں ضرورت پڑے، وہاں اس رخصت پر عمل کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری امہات المؤمنین ان کے اس نظریے سے متفق نہیں تھیں۔
اگر رضاعت سے متعلقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قولی اور عمومی ارشادات کو دیکھا جائے تو ان میں صغرِ سنییعنی مدتِ رضاعت کو معتبر اور مشروط قرار دیا گیا ہے، بلکہ اگلے باب کی پہلی حدیث میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پلانے کی تردید کی ہے۔
صحابہ کی اکثریت اس رخصت کو سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص سمجھتے تھے، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف یہ تھا کہ اشد ضرورت کے موقع پر اس رخصت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، امام ابن تیمیہ اور امام شوکانی وغیرہ کے نزدیک بھی اس رخصت پر عمل کی گنجائش موجود ہے۔
لیکن ہمارا نظریہ امہات المومنین اور صحابہ کی اکثریت والا ہے، اس رائے کی تائید کی دو وجوہات ہیں: (۱) اب لے پالک اور منہ بولے بیٹوں کے احکام واضح کیے جا چکے ہیں کہ ان کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں ہے، لہذا اب وہ مجبوری کہاں پیدا ہو سکتی ہے، جو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گھر کا مسئلہ بنی تھی، اب جو آدمی متبنیٰ بیٹے کو حقیقی بیٹے کے احکام دے گا، وہ پہلے سے ہی حرام امور کا مرتکب ہو رہا ہو گا، اس کو مزید کیا رخصت دی جائے۔
(۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعت کے بارے عام قوانین اور ارشادات، جن میں سے بعض احادیث میں مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پینے کو غیر معتبر سمجھا گیا ہے۔
جو آدمی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نظریے کا حامل ہو، اس کو از راہِ احتیاط اس پر عمل نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے لیے خصوصیت کا امکان ہے، اگرچہ خصوصیت کا کوئی دلیل نہیںہے، لیکن رجحان کا میلان ضرور ہے اور اس میں زیادہ احتیاط بھی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ مسئلہ لے پالک کے حوالہ سے پیش آئے۔ بعض دفعہ اس کے علاوہ بھی پیش آسکتا ہے۔ عورت بعض حالات کے تحت ایک بچے کو اس کے بچپن میں کھلاتی ہے، دیکھتی ہے، وہ بھی اس کے پاس بلا جھجک آتا جاتا ہے پھر بعد وہ وہ جوان ہو جاتا ہے اوراس سے پردہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے تو اس کے لیےیہ سالم اور سعلہ والی صورت پیش آجائے گی۔ ایسے حالات میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے نظریے کے مطابق رخصت حاصل کی جاسکتی ہے جس کی اصل بنیاد حدیث نبوی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
امکان سے تو مسئلہ ثابت نہیں ہوگا۔ خصوصیت کے لیے تو دلیل کی ضرورت ہے عمومی دلائل سے یہ خاص شکل منع نہیں ہوگی۔ بلکہ حالات کے تحت یہ خصوصی شکل مستثنیٰ سمجھی جائے گی۔ (عبداللہ رفیق)
کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو گی؟
اگلے باب کی احادیث میں دو امور بیان کیے گئے ہیں: (۱) مدت ِ رضاعت دو سال ہے، رضاعت کے ثبوت کے لیے اس مدت کے اندر اندر دودھ پلانا ضروری ہے، اور (۲) ایک دو دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔
اس موضوع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت مفصل ہے، وہ کہتی ہیں: کَانَ فِیمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِV وَہُنَّ فِیمَایُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ۔ … جو قرآن مجید میںپہلے حکم نازل ہوا تھا، اس کے مطابق بچے کے دس بار واضح طور پر دودھ پی لینے سے حرمت ثابت ہوتی تھی، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور پانچ دفعہ واضح طور پر دودھ پینے کا حکم لاگو کر دیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے یہ حکم قرآن مجید میں پڑھا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم: ۱۴۵۲)
قرآن مجید میںپڑھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ پانچ رضعات کا حکم بالکل آخری دور میں نازل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک سب لوگوں کو اس کی تلاوت کے منسوخ ہو جانے کا علم نہ ہو سکا، اس لیے بعض صحابہ کچھ دیر تک اس کو قرآن سمجھ کر پڑھتے رہے، آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل گیا اور پھر سب نے اس کی تلاوت چھوڑ دی، البتہ حکم باقی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب بچہ پانچ بار کسی کا دودھ پی لے تو تب رضاعت ثابت ہو گی، ایک دو بار دودھ پینے سے رضاعت کا ثابت نہ ہونا، یہ اسلام کا حسن ہے۔
اب ایک بار دودھ پینے کی کیفیت کیا ہو گی، تو گزارش ہے کہ جب بچہ ماں کے وجود کو اپنے منہ میں ڈال کر چوستا ہے اور دودھ پیتا ہے اور پھر کسی عارضے کے بغیر اپنی مرضی سے پستان کو چھوڑتا ہے تو یہ ایک بار دودھ پینا شمار ہوتا ہے، اس کو ایک ’’رَضْعَۃ‘‘ کہتے ہیں۔ جب بچہ پانچ بار اس انداز میں دودھ پی لے گا تو اس کی رضاعت ثابت ہو جائے گی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نظریہیہ تھا کہ جہاں ضرورت پڑے، وہاں اس رخصت پر عمل کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری امہات المؤمنین ان کے اس نظریے سے متفق نہیں تھیں۔
اگر رضاعت سے متعلقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قولی اور عمومی ارشادات کو دیکھا جائے تو ان میں صغرِ سنییعنی مدتِ رضاعت کو معتبر اور مشروط قرار دیا گیا ہے، بلکہ اگلے باب کی پہلی حدیث میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پلانے کی تردید کی ہے۔
صحابہ کی اکثریت اس رخصت کو سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص سمجھتے تھے، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف یہ تھا کہ اشد ضرورت کے موقع پر اس رخصت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، امام ابن تیمیہ اور امام شوکانی وغیرہ کے نزدیک بھی اس رخصت پر عمل کی گنجائش موجود ہے۔
لیکن ہمارا نظریہ امہات المومنین اور صحابہ کی اکثریت والا ہے، اس رائے کی تائید کی دو وجوہات ہیں: (۱) اب لے پالک اور منہ بولے بیٹوں کے احکام واضح کیے جا چکے ہیں کہ ان کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں ہے، لہذا اب وہ مجبوری کہاں پیدا ہو سکتی ہے، جو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گھر کا مسئلہ بنی تھی، اب جو آدمی متبنیٰ بیٹے کو حقیقی بیٹے کے احکام دے گا، وہ پہلے سے ہی حرام امور کا مرتکب ہو رہا ہو گا، اس کو مزید کیا رخصت دی جائے۔
(۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعت کے بارے عام قوانین اور ارشادات، جن میں سے بعض احادیث میں مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پینے کو غیر معتبر سمجھا گیا ہے۔
جو آدمی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نظریے کا حامل ہو، اس کو از راہِ احتیاط اس پر عمل نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے لیے خصوصیت کا امکان ہے، اگرچہ خصوصیت کا کوئی دلیل نہیںہے، لیکن رجحان کا میلان ضرور ہے اور اس میں زیادہ احتیاط بھی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ مسئلہ لے پالک کے حوالہ سے پیش آئے۔ بعض دفعہ اس کے علاوہ بھی پیش آسکتا ہے۔ عورت بعض حالات کے تحت ایک بچے کو اس کے بچپن میں کھلاتی ہے، دیکھتی ہے، وہ بھی اس کے پاس بلا جھجک آتا جاتا ہے پھر بعد وہ وہ جوان ہو جاتا ہے اوراس سے پردہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے تو اس کے لیےیہ سالم اور سعلہ والی صورت پیش آجائے گی۔ ایسے حالات میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے نظریے کے مطابق رخصت حاصل کی جاسکتی ہے جس کی اصل بنیاد حدیث نبوی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
امکان سے تو مسئلہ ثابت نہیں ہوگا۔ خصوصیت کے لیے تو دلیل کی ضرورت ہے عمومی دلائل سے یہ خاص شکل منع نہیں ہوگی۔ بلکہ حالات کے تحت یہ خصوصی شکل مستثنیٰ سمجھی جائے گی۔ (عبداللہ رفیق)
کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو گی؟
اگلے باب کی احادیث میں دو امور بیان کیے گئے ہیں: (۱) مدت ِ رضاعت دو سال ہے، رضاعت کے ثبوت کے لیے اس مدت کے اندر اندر دودھ پلانا ضروری ہے، اور (۲) ایک دو دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔
اس موضوع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت مفصل ہے، وہ کہتی ہیں: کَانَ فِیمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِV وَہُنَّ فِیمَایُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ۔ … جو قرآن مجید میںپہلے حکم نازل ہوا تھا، اس کے مطابق بچے کے دس بار واضح طور پر دودھ پی لینے سے حرمت ثابت ہوتی تھی، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور پانچ دفعہ واضح طور پر دودھ پینے کا حکم لاگو کر دیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے یہ حکم قرآن مجید میں پڑھا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم: ۱۴۵۲)
قرآن مجید میںپڑھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ پانچ رضعات کا حکم بالکل آخری دور میں نازل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک سب لوگوں کو اس کی تلاوت کے منسوخ ہو جانے کا علم نہ ہو سکا، اس لیے بعض صحابہ کچھ دیر تک اس کو قرآن سمجھ کر پڑھتے رہے، آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل گیا اور پھر سب نے اس کی تلاوت چھوڑ دی، البتہ حکم باقی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب بچہ پانچ بار کسی کا دودھ پی لے تو تب رضاعت ثابت ہو گی، ایک دو بار دودھ پینے سے رضاعت کا ثابت نہ ہونا، یہ اسلام کا حسن ہے۔
اب ایک بار دودھ پینے کی کیفیت کیا ہو گی، تو گزارش ہے کہ جب بچہ ماں کے وجود کو اپنے منہ میں ڈال کر چوستا ہے اور دودھ پیتا ہے اور پھر کسی عارضے کے بغیر اپنی مرضی سے پستان کو چھوڑتا ہے تو یہ ایک بار دودھ پینا شمار ہوتا ہے، اس کو ایک ’’رَضْعَۃ‘‘ کہتے ہیں۔ جب بچہ پانچ بار اس انداز میں دودھ پی لے گا تو اس کی رضاعت ثابت ہو جائے گی۔