الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ عَدَدِ الرَّضْعَاتِ الْمُحَرِّمَةِ وَمَا جَاءَ فِي رَضَاعَةِ الكبير باب: حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لِعَائِشَةَ: إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ، وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ))۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: عائشہ! آپ کے پاس بلوغت کے قریب ایک لڑکا آتا ہے، میں پسند نہیں کرتی کہ وہ میرے پاس آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا آپ کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ ابو حذیفہ کی بیوی نے کہا: اے اللہ کے رسول! سالم میرے پاس آتا ہے اور اب وہ مرد بن چکا ہے اور ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے تاکہ وہ تیرے پاس آ سکے۔