الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ عَدَدِ الرَّضْعَاتِ الْمُحَرِّمَةِ وَمَا جَاءَ فِي رَضَاعَةِ الكبير باب: حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا كَانَ مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نَعُدُّهُ وَلَدًا فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ كَيْفَ شَاءَ وَلَا نَحْتَشِمُ مِنْهُ فَلَمَّا أَنْزَلَ فِيهِ وَفِي أَشْبَاهِهِ مَا أَنْزَلَ أَنْكَرْتُ وَجْهَ أَبِي حُذَيْفَةَ إِذَا رَآهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ قَالَ فَأَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ كَيْفَ شَاءَ فَإِنَّمَا هُوَ ابْنُكِ فَكَانَتْ عَائِشَةُ تَرَاهُ عَامًّا لِلْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مَنْ سِوَاهَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرَى أَنَّهَا كَانَتْ خَاصَّةً لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكَرَتْ سَهْلَةُ مِنْ شَأْنِهِ رُخْصَةً لَهُ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلۃ بنت سہیل رضی اللہ عنہا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ سالم کا ہمارے ہاں کیا مقام تھا، بس ہم اس کو بیٹا ہی سمجھتے تھے، وہ میرے پاس جیسے چاہتا، آجاتا تھا، ہم اس کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے، اب اس کے بارے میں اور اس قسم کے لے پالک لڑکوں کے بارے میں نیا حکم نازل ہو چکا ہے، اب جب سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کو دیکھتے ہیں تو ان کا چہرہ متغیرہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دس مرتبہ دودھ پلادے، پھر وہ جیسے چاہے، تیرے پاس آ جائے، وہ تیرا بیٹا بن جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس حکم کو عام سمجھتی تھیں، لیکن دوسری ازواج مطہرات کا خیال تھا کہ یہ حکم مولائے ابی حذیفہ سالم کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا نے اس کی ایک خاص صورت ذکر کی تھی۔