حدیث نمبر: 6968
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا كَانَ مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نَعُدُّهُ وَلَدًا فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ كَيْفَ شَاءَ وَلَا نَحْتَشِمُ مِنْهُ فَلَمَّا أَنْزَلَ فِيهِ وَفِي أَشْبَاهِهِ مَا أَنْزَلَ أَنْكَرْتُ وَجْهَ أَبِي حُذَيْفَةَ إِذَا رَآهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ قَالَ فَأَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ كَيْفَ شَاءَ فَإِنَّمَا هُوَ ابْنُكِ فَكَانَتْ عَائِشَةُ تَرَاهُ عَامًّا لِلْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مَنْ سِوَاهَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرَى أَنَّهَا كَانَتْ خَاصَّةً لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكَرَتْ سَهْلَةُ مِنْ شَأْنِهِ رُخْصَةً لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلۃ بنت سہیل رضی اللہ عنہا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ سالم کا ہمارے ہاں کیا مقام تھا، بس ہم اس کو بیٹا ہی سمجھتے تھے، وہ میرے پاس جیسے چاہتا، آجاتا تھا، ہم اس کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے، اب اس کے بارے میں اور اس قسم کے لے پالک لڑکوں کے بارے میں نیا حکم نازل ہو چکا ہے، اب جب سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کو دیکھتے ہیں تو ان کا چہرہ متغیرہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دس مرتبہ دودھ پلادے، پھر وہ جیسے چاہے، تیرے پاس آ جائے، وہ تیرا بیٹا بن جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس حکم کو عام سمجھتی تھیں، لیکن دوسری ازواج مطہرات کا خیال تھا کہ یہ حکم مولائے ابی حذیفہ سالم کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا نے اس کی ایک خاص صورت ذکر کی تھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 6968
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: ’’فارضعيه عشر رضعات‘‘ فقد انفرد فيه ابن اسحاق، والصحيح ’’أرضعيه خمس رضعات‘‘ وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26846»