الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ هَلْ يَثبتُ حُكْمُ الرَّضَاعِ فِي حَقِّ زَوْجِ الْمُرْضِعَةِ وَأَقَارِبِهِ كَالْمُرْضِعَةِ أَمْ لَا باب: کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَاهُ فُلَانًا لِعَمٍّ لِحَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے ایک آدمی کی آواز سنی، وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگ رہاتھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی، آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ حفصہ کا فلاں رضاعی چچا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرا فلاں رضاعی چچا زندہ ہوتا تو وہ مجھ پر داخل ہو سکتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بیشک رضاعت ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے، جو نسب اور ولادت کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کا دودھ اس کے خاوند کے جماع اور حمل کے نتیجے میں اترتا ہے، گویا عورت کے دودھ میں خاوند کا بھی دخل ہے، لہذا دودھ پینے والے بچے یا بچی کا رشتہ عورت اور اس کے خاوند دونوں سے قائم ہو گا۔