الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ هَلْ يَثبتُ حُكْمُ الرَّضَاعِ فِي حَقِّ زَوْجِ الْمُرْضِعَةِ وَأَقَارِبِهِ كَالْمُرْضِعَةِ أَمْ لَا باب: کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں
عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ امْرَأَةُ أَبِي أَرْضَعَتْ جَارِيَةً مِنْ عُرْضِ النَّاسِ بِلَبَنِ أَخَوَيَّ أَفَتَرَى أَنِّي أَتَزَوَّجُهَا فَقَالَ لَا أَبُوكِ أَبُوهَا قَالَ ثُمَّ حَدَّثَ حَدِيثَ أَبِي الْقُعَيْسِ فَقَالَ إِنَّ أَبَا الْقُعَيْسِ أَتَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا فَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَقَالَ هُوَ عَمُّكِ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ فَقُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ فَقَالَ هُوَ عَمُّكِ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِعباد بن منصور کہتے ہیں:میں نے قاسم بن محمد سے کہا: میرے باپ کی بیوی نے میرے بھائیوں کا دودھ عوام میں سے کسی لڑکی کو پلایا، اب کیا میں اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ اب تیرا اور اس لڑکی کاباپ ایک ہے، پھر اس نے ابو قعیس کی حدیث بیان کی اور وہ اس طرح کہ ابو قعیس، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے اندر جانے کی اجازت طلب کی، لیکن انہوں نے اس کو اجازت نہ دی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس آیا تھا، اس نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن میں نے اس کو اجازت نہیں دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو تمہارا چچا ہے، اس کو تمہارے پاس آ جانا چاہیے۔ میں نے کہا: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مردنے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں وہ آپ کا چچا ہے،وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے۔