الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
باب يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ باب: رضاعت کی وجہ سے نکاح کے حرام ہو جانے کے ابواب جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، وہی رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَقَالَ ائْذَنِي لَهُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی،لیکن میں نے اجازت نہ دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دیا کرو۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مرد نے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو اس کو اجازت دے دیا کر، وہ تیرا رضاعی چچا ہے۔
ان عورتوں میں وہی تفصیل ہے، جو نسبی محرمات میں بیان کی جاتی ہے، یعنی صرف رضاعی ماں بھی حرام نہیں ہو گی، بلکہ اس کی ماں، اس کی دادی اور آگے پڑدادیاں اور ان سے آگے تک تمام مائیں حرام ہوں گی۔ اسی طرح اگر رضاعی بیٹی حرام ہے تو رضاعی پوتیاں، نواسیاں، اور نواسیوں اور پوتیوں کی بیٹیاں، نیچے تک سب حرام ہو ں گی۔
قرآن مجید میں صرف رضاعی ماؤں اور رضاعی بہنوں کی حرمت کا ذکر ہے، باقی تفصیل احادیث ِ مبارکہ میں بیان کی گئی ہے۔