حدیث نمبر: 6962
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَقَالَ ائْذَنِي لَهُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی،لیکن میں نے اجازت نہ دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دیا کرو۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مرد نے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو اس کو اجازت دے دیا کر، وہ تیرا رضاعی چچا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ہر وہ عورت جو نسب کی وجہ سے حرام کی گئی ہے، وہ اسی طرح رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہے، ان عورتوں کی تفصیلیہ ہیں: ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی۔
ان عورتوں میں وہی تفصیل ہے، جو نسبی محرمات میں بیان کی جاتی ہے، یعنی صرف رضاعی ماں بھی حرام نہیں ہو گی، بلکہ اس کی ماں، اس کی دادی اور آگے پڑدادیاں اور ان سے آگے تک تمام مائیں حرام ہوں گی۔ اسی طرح اگر رضاعی بیٹی حرام ہے تو رضاعی پوتیاں، نواسیاں، اور نواسیوں اور پوتیوں کی بیٹیاں، نیچے تک سب حرام ہو ں گی۔
قرآن مجید میں صرف رضاعی ماؤں اور رضاعی بہنوں کی حرمت کا ذکر ہے، باقی تفصیل احادیث ِ مبارکہ میں بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 6962
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4796، ومسلم: 1445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24555»