حدیث نمبر: 6955
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ قَالَ: ثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ أَبِي الْجَهْمِ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَأَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ ضَلَّتْ لِي فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا أَجُولُ فِي أَبْيَاتٍ فَإِذَا أَنَا بِرَكْبٍ وَفَوَارِسَ إِذْ جَاءُوا فَطَافُوا بِفِنَائِي فَاسْتَخْرَجُوا رَجُلًا فَمَا سَأَلُوهُ وَلَا كَلَّمُوهُ حَتَّى ضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَلَمَّا ذَهَبُوا سَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا: عَرَّسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدمبارک میں میرے اونٹ گم ہو گئے، پس میں مختلف گھروں میں چکر لگا رہا تھا، اچانک میں نے ایک قافلہ اور گھوڑ سوار دیکھے، وہ آگے بڑھے اور میرے صحن میں گھومے، انھوں نے ایک آدمی کو نکالنے کا مطالبہ کیا، پھر نہ انھوں نے اس سے کوئی سوال کیا اور نہ اس سے کوئی بات کی،یہاں تک کہ اس کی گردن اڑا دی، جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6955
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، وانظر المصدر المذكور في الحديث رقم: 6954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18809»