الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّيْهَا وَنَحْوِهَا مِنَ الْمَحَارِمِ باب: عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6953
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ أَوْ أَقْتُلَهُ وَآخُذَ مَالَهُ.ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے ماموں کو اس حال میں ملا کہ ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، میں نے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں: انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا ہے، جس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس لئے بھیجا کہ میں اس کی گردن اڑا دو، یا اس کو قتل کر دوں اور اس کا مال لوٹ لاؤں۔
وضاحت:
فوائد: … کون کون سی خواتین کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، دو بہنوںکا ذکر قرآن مجید میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ} … ’’(اور تم پر حرام کیا گیا ہے کہ) تم دو بہنوں کو لیکن اس باب کی احادیث سے پتہ چلا کہ خالہ اور اس کی بھانجی اور پھوپھی اور اس کی بھتیجی کو بھی ایک نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، رضاعی رشتوں کا بھی اسی طرح لحاظ رکھا جائے گا۔
اس بحث سے ثابت ہوا کہ احادیث ِ مبارکہ بنفس نفیس حجت ہیں، ان کو قرآن مجید کے مفہوم پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، غور کریں کہ اللہ تعالی نے دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر کے فرمایا: {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} … ’’اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں ہیں۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۴)
لیکن احادیث ِ مبارکہ نے خالہ اور بھانجی،پھوپھی اور بھتیجی اور رضاعی رشتوں کا اضافہ کر دیا، شارح ابوداود علامہ شرف الحق عظیم آبادی نے کہا: خارجیوں اور شیعوں کے بعض گروہوں نے {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ بھتیجی اور پھوپھی اور خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا درست ہے، لیکن جمہور اہل علم نے اِن احادیث سے حجت پکڑی اور اِن کی روشنی میں قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کر دی اور ان دو رشتوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر دیا، راجح بات جمہور اصولیوں کی ہی ہے کہ خبر و احد کے ذریعے قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کی جا سکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف نازل ہونے والے کلام کی وضاحت کرنے والے ہیں۔ (عون المعبود: ۱/ ۹۷۰)
اس بحث سے ثابت ہوا کہ احادیث ِ مبارکہ بنفس نفیس حجت ہیں، ان کو قرآن مجید کے مفہوم پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، غور کریں کہ اللہ تعالی نے دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر کے فرمایا: {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} … ’’اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں ہیں۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۴)
لیکن احادیث ِ مبارکہ نے خالہ اور بھانجی،پھوپھی اور بھتیجی اور رضاعی رشتوں کا اضافہ کر دیا، شارح ابوداود علامہ شرف الحق عظیم آبادی نے کہا: خارجیوں اور شیعوں کے بعض گروہوں نے {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ بھتیجی اور پھوپھی اور خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا درست ہے، لیکن جمہور اہل علم نے اِن احادیث سے حجت پکڑی اور اِن کی روشنی میں قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کر دی اور ان دو رشتوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر دیا، راجح بات جمہور اصولیوں کی ہی ہے کہ خبر و احد کے ذریعے قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کی جا سکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف نازل ہونے والے کلام کی وضاحت کرنے والے ہیں۔ (عون المعبود: ۱/ ۹۷۰)