الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّيْهَا وَنَحْوِهَا مِنَ الْمَحَارِمِ باب: عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي؟ قَالَ: ((فَأَصْنَعُ بِهَا مَاذَا؟)) قَالَتْ: تَزَوَّجْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟)) فَقَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي)) قَالَتْ: فَوَاللَّهِ! لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ كَانَتْ تَحِلُّ لِي لَمَا تَزَوَّجْتُهَا، قَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ مَوْلَاةُ بَنِي هَاشِمٍ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلَا بَنَاتِكُنَّ)).۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن کی رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟انھوں نے کہا: آپ اس سے شادی کرلیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں اورپہلے کون سی اکیلی ہوں، اور میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے کہ وہ اس خیر وبھلائی میں میرے ساتھ شریک ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے لئے حلال نہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ نے درہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں اس سے شادی نہ کر سکتا، کیونکہ بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے مجھے اور اس کے باپ کو دودھ پلایا ہے، پس اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر پیش نہ کرو۔