الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّيْهَا وَنَحْوِهَا مِنَ الْمَحَارِمِ باب: عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَبَيْنَ خَالَةِ أَبِيهَا وَالْمَرْأَةِ وَخَالَةِ أُمِّهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أَبِيهَا وَالْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أُمِّهَا، فَقَالَ: قَالَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، فَنَرَى خَالَةَ أُمِّهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ وَإِنْ كَانَ مِنَ الرِّضَاعِ يَكُونُ مِنْ ذَلِكَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ.۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنے نکاح میں ایک عورت اور اس کے باپ کی خالہ یا اس کی ماں کی خالہ کو جمع کرتا ہے اور عورت اور اس کے باپ کی پھوپھی یا اس کی ماں کی پھوپھی کو جمع کرتا ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: قبیصہ بن ذؤیب نے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک نکاح میں عورت اور اس کی خالہ کو اور عورت اور اس کی پھوپھی کوجمع کیا جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ عورت کی ماں کی خالہ اس کی اپنی خالہ کے قائم مقام ہے اور اگر اس طرح کا رضاعی رشتہ ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔