الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
باب حُكْمِ هَدَايَا الزَّوْجِ لِلْمَرْأَةِ وَأَوْلِيَائِهَا باب: خاوند کا بیوی اور اس کے اولیاء کو تحفے دینے کا حکم
حدیث نمبر: 6939
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَةٍ فَهُوَ لَهَا وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عَقْدِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ بِهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس حق مہر یا وعدہ کے ذریعہ عورت کی شرمگاہ حلال کی گئی ہے، وہ اسی عورت کے لئے ہے اور نکاح کے عقد کے بعد اس کے باپ یا بھائی یا ولی کو اعزازی طور پر جو چیز دی جائے، وہ اسی کی ہو گی،یہ بیٹی اور بہن ہی ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی عزت کا سب سے حقدار قرار پاتا ہے۔