حدیث نمبر: 6938
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے حق مہر یا تحفہ یا وعدہ پر نکاح کیا ہے، تو جو چیز نکاح کے عقد سے پہلے ہوگی، وہ اس عورت کی ہی ہو گی،جو نکاح کے بعد ہوگی، وہ اسی کے لئے ہو گی، جس کے لیے دی جائے گی،یہ بیٹی اور بہن ہی ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی عزت کا سب سے زیادہ مستحق قرار پاتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … وعدہ سے مراد یہ ہے کہ بننے والا خاوند جو چیزیں دینے کا وعدہ کرے۔
اس حدیث ِ مبارکہ کے پہلے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ولییا وکیل کو نکاح سے پہلے جو کچھ دیا جائے گا، وہ دراصل اس کی بچی کا ہو گا اور نکاح کے بعد جو چیز جس کو دی جائے گی، وہ اسی کی ہو گی۔
حدیث مبارکہ کے آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے سالے اور داماد کی عزت کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6938
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2129 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6709»