حدیث نمبر: 6937
عَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ أَصْدَقَ امْرَأَةً صَدَاقًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَيْهَا فَغَرَّهَا بِاللَّهِ وَاسْتَحَلَّ فَرْجَهَا بِالْبَاطِلِ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ سَارِقٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے عورت کے لیے حق مہر مقرر کیا اور اللہ تعالی یہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا، اس طرح وہ اللہ کے نام پر عورت کو دھوکا دیتا ہے اور اس کی شرم گاہ کو باطل طریقے سے حلال کر لیتا ہے، یہ آدمی جس دن اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا، اس دن وہ چور شمار ہوگا۔

وضاحت:
فوائد: … امام البانی نے ابن ماجہ کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَیُّمَا رَجُلٍ یَدِینُ دَیْنًا وَہُوَ مُجْمِعٌ أَنْ لَا یُوَفِّیَہُ إِیَّاہُ لَقِیَ اللَّہَ سَارِقًا۔)) … ’’جس آدمی نے قرض لیا، جبکہ اس کا عزمیہ ہو کہ وہ اس کو ادا نہیں کرے گا تو وہ اللہ تعالی کو چور کی حیثیت سے ملے گا۔‘‘
مہر کے بغیر نکاح باطل ہوتا ہے، اس کی ادائیگی نہ کرنے کی نیت رکھنے والا آدمی بڑے خسارے میں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6937
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه بنحوه النسائي: 6/ 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19140»