الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ مَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يُسمَ صَدَاقًا ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ الدُّخُولِ باب: اس شخص کا بیان جس نے مہر کے تقرر کے بغیر شادی کر لی اور پھر حق زوجیت ادا کرنے سے پہلے فوت ہو گیا
حدیث نمبر: 6935
وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) مسروق کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے … پھر وہی حدیث ذکر کی … البتہ اس میں ہے: پس سیدنا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … مہر مقرر کرنے کے بغیر نکاح ہو سکتا ہے، مگر مہر کی نفی نہ کی جائے، اگر مہر کی نفی کی جائے گی تو نکاح باطل ہو گا، مہر کی نفی نہ ہو مگر مقرر نہ کیا گیا ہو تو بعد میں جس پر بھی اتفاق ہو جائے، وہی مہر ہو گا اور اگر اتفاق نہ ہو تو اس عورت کی ذاتی اور خاندانی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مہر مقرر کیا جائے گا، مثلا: اس کی بہنوں یا پھوپھیوںیا اسی جیسی دوسری عورتوں کا عمومی مہر۔ اس کو مہرِ مثل کہا جاتا ہے۔ سنن ابو داود کی روایت میںیہ وضاحت بھی ہے کہ جب لوگوں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کے حق میںیہ شہادت دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بروع رضی اللہ عنہا اور ان کے خاوند سیدنا ہلال بن مرہ اشجعی رضی اللہ عنہ کے بارے میںیہی فیصلہ کیا تھا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ بات سن کر بہت زیادہ خوش ہوئے کہ ان کا اجتہادی فیصلہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے موافق ہو گیا ہے۔