الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ مَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يُسمَ صَدَاقًا ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ الدُّخُولِ باب: اس شخص کا بیان جس نے مہر کے تقرر کے بغیر شادی کر لی اور پھر حق زوجیت ادا کرنے سے پہلے فوت ہو گیا
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَتُوُفِّيَ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ صَدَاقًا فَسُئِلَ عَنْهَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهَا صَدَاقُ إِحْدَى نِسَائِهَا وَلَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَقَامَ أَبُو سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فِي رَهْطٍ مِنْ أَشْجَعَ فَقَالُوا نَشْهَدُ لَقَدْ قَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ۔ (تیسری سند)علقمہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اورحق زوجیت کے ادا کرنے اور مہر کا تعین کرنے سے پہلے فوت ہو گیا، جب سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:اس خاتون کو مہر مثل دیا جائے گا، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی، نیزیہ عورت عدت بھی گزارے گی، سیدناابو سنان اشجعی اپنے قبیلے کے ایک گروہ سمیت کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم نے وہی فیصلہ کیا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں کیا تھا۔