الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ مَنْ جَعَلَ الْعِلْقَ صَدَاقًا وَكَذَالِكَ تَعْلِيمُ بَعْضِ الْقُرْآن باب: آزادی کو اور قرآن مجید کے بعض حصے کی تعلیم کو مہر بنانے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَجُلًا مِنْ صَحَابَتِهِ فَقَالَ أَيَ فُلَانُ هَلْ تَزَوَّجْتَ قَالَ لَا وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الكافرون 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ} [الزلزلة 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ} [النصر 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [البقرة 255] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی سے سوال کیا: اے فلاں! کیا تو شادی شدہ ہے۔ اس نے کہا: جی نہیں، میرے پاس شادی کے لئے مالی گنجائش نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ اخلاص یاد ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ کافرون یاد ہے؟ اس نے کہا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورہ زلزال یاد ہے؟ اس نے کہا: جی یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ نصر یاد ہے؟ اس نے کہا: جی یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے آیۃ الکرسی یاد ہے؟ اس نے کہا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر شادی کرلے، شادی کرلے، شادی کر لے۔ تین مرتبہ اس بات کو دوہرایا۔
مذکورہ بالا دو ابواب کی احادیث اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔ پانچ درہم، ایک تہبند اور لوہے کی انگوٹھی تک کا ذکر ہو چکا ہے، دراصل یہ عورت کا حق ہے اور وہ جس حق پر راضی ہو جائے، وہ اس کا مہر قرار پائے گا۔
احناف نے مہر کے لیے کم از کم دس درہم یا اس کے برابر قیمت کی چیز کی قید لگائی ہے اور یہ روایت بطورِ دلیل پیش کی ہے: ((لَا مَھْرَ اَقَلُّ مِنْ عَشْرَۃِ دَرَاھِمَ۔)) … ’’دس درہموں سے کم کوئی مہر نہیں ہے۔‘‘ (دارقطنی: ۳/ ۲۴۴، بیہقی: ۷/ ۱۳۳) لیکنیہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں دو راویوں پر اعتراض ہے، ایک حجاج بن ارطاۃ جو مدلس ہے اور دوسرا مبشر بن عبید جو کہ متروک ہے، نیزاس کے مقابلے میں ایسی صحیح احادیث اوپر گزر چکی ہے، جو دس درہم سے کم مہر پر دلالت کرتی ہیں۔
البتہیہ قید ضرور ہے کہ مہر کے سلسلے میں غلوّ سے بچنا چاہیے۔