الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ جَوَازِ التزويج عَلَى الْقَلِيلِ وَالكَثيرِ وَاسْتِحْبَابِ الْقَصْدِ فِيهِ باب: مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ وَكَانَ أَتَى النَّجَاشِيَّ فَمَاتَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ وَإِنَّهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ وَأَمْهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ ثُمَّ جَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ شَرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَجِهَازُهَا كُلُّهُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ وَلَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَكَانَ مُهُورُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ، عبیداللہ بن حجش کے عقد میں تھیں،جب وہ نجاشی کے پاس آیا تو وہاں فوت ہو گیا،بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہاسے شادی کرلی، جبکہ وہ ابھی تک حبشہ کی سرزمین میں تھیں، نجاشی نے وکیل بن کر ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کی اور ان کا حق مہر چار ہزار درہم ادا کیا، پھر اس نے اپنے پا س سے سیدہ کو تیارکیا اور ان کو سیدنا شرحبیل بن حسنہ کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیج دیا، ان کی ساری تیاری نجاشی کی طرف سے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف کوئی چیز نہیں بھیجی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیگر بیویوں کا مہر چار سو درہم تھا۔