الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ جَوَازِ التزويج عَلَى الْقَلِيلِ وَالكَثيرِ وَاسْتِحْبَابِ الْقَصْدِ فِيهِ باب: مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6927
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا قَالَتْ أَتَدْرِي مَا النَّشُّ قُلْتُ لَا قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ فَتِلْكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنامہر دیتے تھے، انھوں نے کہا:آپ کی بیویوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیے تھا۔پھر انھوں نے کہا: تجھے نَشّ کا پتہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انھوں نے کہا: اس سے مراد نصف اوقیہ ہے، یہ ساڑھے بارہ اوقیے کل پانچ سو درہم بنتے ہیں،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا حق مہر تھا۔