حدیث نمبر: 6923
عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَلَا لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى فِي الْآخِرَةِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ وَلَا نِسَائِهِ فَوْقَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا فِي مَغَازِيكُمْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِهِ أَوْ دَفَّ رَاحِلَتَهُ ذَهَبًا وَفِضَّةً يَبْتَغِي التِّجَارَةَ فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو العجفاء سلمی کہتے ہیں:سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: عورتوں کے مہر میں غلوّ نہ کرو، کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں کوئی عزت اور آخرت میں تقویٰ کا باعث ہوتی تو تم میں اس کے سب سے زیادہ مستحق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اپنی بیٹیوں اور بیویوں کا نکاح بارہ اوقیوں سے زیادہ میں نہیں کیا، ایک اور بات بھی ہے، تم اپنے غزووں کے بارے میں کہتے ہو کہ فلاں شہید ہو گیا ہے، فلاں نے شہادت پائی ہے، اس میں بھی احتیاط برتو، ہو سکتا ہے اس نے اپنے جانور کی پشت یا اس کے پالان کا کنارہ سونے اور چاندی کی طلب میں اور تجارت میں بوجھل کیا ہو، اس لئے اس طرح نہ کہا کرو کہ فلاں شہید ہو گیا، بلکہ اس طرح کہا کرو جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ جو اللہ کے راستے میں شہید ہو گیا، وہ جنتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … بارہ اوقیے، چارسو اسی درہم بنتے ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو چار ہزار درہم بطور حق مہر دیا گیا تھا، لیکن وہ نجاشی نے دیا تھا، نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ حدیث نمبر (۶۹۲۷) میں سیدہ عائشہ نے ساڑھے بارہ اوقیے مہر بیان کیا ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کسر کا ذکر نہ کیا ہے۔
امہات المؤمنین کے حق مہر کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ان اقوال کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر بیویوں پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ سیدہ خدیجہ، سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہن کا حق مہر بارہ اوقیے نہیں تھا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ایک آدمی بظاہر جہادی قافلے کے ساتھ جا رہا ہے، لیکن اس کا ارادہ تجارت کا ہو اور اس نے باقاعدہ اپنی سواریوں پر اسی نیت سے کچھ سامان بھی لادا ہوا ہو، اس لیے ہر ایک کو فوراً شہید کہہ دینے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6923
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2106، والنسائي: 6/ 117، وابن ماجه: 1887، والترمذي: 1114م ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 285»