الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ جَوَازِ التزويج عَلَى الْقَلِيلِ وَالكَثيرِ وَاسْتِحْبَابِ الْقَصْدِ فِيهِ باب: مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6922
عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ فِي امْرَأَةٍ فَقَالَ كَمْ أَمْهَرْتَهَا قَالَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بَطْحَانَ مَا زِدْتُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ایک عورت کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کا کتنا حق مہر مقرر کیا ہے؟ انھوں نے کہا : دو سو درہم، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مدینہ کی بطحان وادی سے چلوؤں سے چاندی بھرو تو پھر بھی اس مقدار سے زیادہ نہ کرو۔