الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ جَوَازِ التزويج عَلَى الْقَلِيلِ وَالكَثيرِ وَاسْتِحْبَابِ الْقَصْدِ فِيهِ باب: مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6921
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا نشان دیکھا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے نواۃ کے وزن کے برابر سونے پر شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر برکت نازل کرے، ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری کا ہی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: صحیح بات یہ ہے کہ یہ زعفران وغیرہ کا زرد رنگ دلہن کی خوشبو ہے اور اسی سے یہ رنگ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو لگ گیا تھا، نہ کہ انھوں نے بارادہ یہ کام کیا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفران سے منع فرمایا ہے، اسی طرح مردوں کو خلوق خوشبو سے بھی منع کیا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی عورتوں کی خوشبو ہے۔
نسائی (۳۳۷۵)کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رنگ کے بارے میں ان الفاظ میں سوال کیا: ’’مَھْیَمْ؟‘‘ (یہ کیسے)۔ اور آگے سے سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کا جواب دینا کہ انھوں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کی ہے۔
ان الفاظ سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو اس رنگ سے منع کر رکھا تھا اور سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو اپنی بیوی سے یہ رنگ لگ گیا تھا۔
اس لیے اس حدیث سے مردوں کے لیے اس رنگ دار خوشبو کے جواز کا استدلال کشیدنہیں کرنا چاہیے۔
نسائی (۳۳۷۵)کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رنگ کے بارے میں ان الفاظ میں سوال کیا: ’’مَھْیَمْ؟‘‘ (یہ کیسے)۔ اور آگے سے سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کا جواب دینا کہ انھوں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کی ہے۔
ان الفاظ سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو اس رنگ سے منع کر رکھا تھا اور سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو اپنی بیوی سے یہ رنگ لگ گیا تھا۔
اس لیے اس حدیث سے مردوں کے لیے اس رنگ دار خوشبو کے جواز کا استدلال کشیدنہیں کرنا چاہیے۔