الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ الشَّرُوطِ فِي النِّكَاحَ وَمَا نَهَى عَنْهُ مِنْهَا باب: نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
حدیث نمبر: 6918
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ مَرْدُودٌ وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر شرط جو کتاب اللہ میں نہیں ہے، وہ مردود ہے، اگرچہ لوگ ایسی سو شرطیں لگا لیں۔
وضاحت:
فوائد: … کتاب اللہ میں نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ شرط کتاب و سنت کے مخالف ہو، یعنی اس شرط کی وجہ سے وہ چیز ممنوع نہ قرار پاتی ہو، جو شریعت میں جائز ہو یا وہ چیز جائز نہ قرار پاتی ہو، جس کو شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔ مثال کے طور نکاح کے وقت عورت کے اولیاء کی طرف سے یہ شرط لگانا کہ اگر خاوند نے اس خاتون کو طلاق دی تو ساتھ اتنی رقم ادا کرنا پڑے گییا ماہانہ اتنا خرچ دینا پڑے گا، یہ شرط حرام ہے، کیونکہ شریعت خاوند کو طلاق دینے کا جو حق دیا ہے، اس شرط کے ذریعے اس پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔