الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْخُطْبَةِ لِلنِّكَاحِ باب: نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6914
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالُوا بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ فَقَالَ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكَ قَالُوا فَمَا نَقُولُ يَا أَبَا يَزِيدَ قَالَ قُولُوا بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ وَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ إِنَّا كَذَلِكَ كُنَّا نُؤْمَرُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بنو جشم قبیلے کی ایک خاتون سے شادی کی، جب لوگ ان کے پاس گئے تو انھوں نے کہا: اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں، لیکن انھوں نے کہا: اس طرح نہ کہو، لوگوں نے کہا: اے ابو یزید! تو پھر ہم کیا کہیں؟ انھوں نے کہا: تم اس طرح کہو بَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ عَلَیْکُمْ (اللہ تعالی تمہارے لیے برکت کرے، اللہ تعالی تمہارے لیے برکت کرے اور اللہ تعالی تم پر برکت کرے۔) ہمیں یہ دعائیہ کلمات کہنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو یزید تھی۔
’’اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں‘‘ بظاہر تو یہ دعا بھی اچھی ہے، لیکن سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ نے وہ دعا کہنے کی ترغیب دلائی، جس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔
’’اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں‘‘ بظاہر تو یہ دعا بھی اچھی ہے، لیکن سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ نے وہ دعا کہنے کی ترغیب دلائی، جس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔