حدیث نمبر: 6912
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب کسی کی شادی ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ان الفاظ کے ساتھ مبارک دیتے: بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ (اللہ تعالی تیرے لیے اور تجھ پر برکت نازل کرے اور تم دونوں کو خیر و بھلائی میں اکٹھا کر دے۔)

وضاحت:
فوائد: … ہمارے ہاں ہر خوشی پر یہ الفاظ کہے جاتے ہیں: مبارک ہو۔ یہ لفظ مُبارَک ہے، مُبارِک نہیں ہے۔ اگرچہ ان الفاظ کے معانییہی ہیں کہ یہ خوشی تمہارے لیے باعث ِ برکت ثابت ہو، لیکن اب ان لفظوں کو معانی کا لحاظ رکھے بغیر محض لفظ کی حد تک استعمال کیا جاتا ہے، لہذا زیادہ لائق یہی ہے کہ وہی الفاظ دوہرائے جائیں، جن کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان موقعوں پر تعلیم دی ہے، نیز درج ذیل حدیث پر غور کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6912
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 2130، والترمذي: 1091 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8944»