الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْكَفَائَةِ فِي النِّكَاحِ باب: نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
حدیث نمبر: 6906
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَسَبُ: الْمَالُ، وَالْكَرَمُ: التَّقْوَى))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور کرم تقویٰ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’حسب مال ہے‘‘ اس سے مراد دنیا کا مال و دولت ہے، جس کے ذریعے جاہ و حشمت ملتی ہے۔ ’’کرم تقوی ہے‘‘ یعنی وہ کرم جو آخرت میں معتبر ہو گا اور جس کا نتیجہ بلند درجات کے ساتھ اکرام کی صورت میں نکلے گا، وہ تقوی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} … ’’بیشک تم میں سے اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ ہے، جو سب سے زیادہ تقوی والا ہے۔‘‘ (سورۂ حجرات: ۱۳)
ایک قول کے مطابق اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وہ امور تھے، جو لوگوں میں متعارف ہیں، لوگوں میں فقیر آدمی کا کوئی حسب نہیں ہے، کیونکہ نہ اس کی عزت ہوتی ہے اور نہ اس کو مجلس میں بٹھایا جاتا ہے، گویا کہ دنیا والوں کا حسب مال ہے، مال والا ہی لوگوں کے ہاں شرف و فضیلت والا قرار پاتا ہے، لیکن اللہ تعالی کے ہاں اس شخص کو عزت و کرم والا نہیں سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بارگاہِ عالیہ میں معیار تقوی ہے، نہ کہ مال و دولت اور حسب و نسب، اس لیے اللہ تعالی کے ہاں کریم اور معزز وہ ہو گا، جو تقوی کے لباس سے مزین ہو گا۔
ایک قول کے مطابق اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وہ امور تھے، جو لوگوں میں متعارف ہیں، لوگوں میں فقیر آدمی کا کوئی حسب نہیں ہے، کیونکہ نہ اس کی عزت ہوتی ہے اور نہ اس کو مجلس میں بٹھایا جاتا ہے، گویا کہ دنیا والوں کا حسب مال ہے، مال والا ہی لوگوں کے ہاں شرف و فضیلت والا قرار پاتا ہے، لیکن اللہ تعالی کے ہاں اس شخص کو عزت و کرم والا نہیں سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بارگاہِ عالیہ میں معیار تقوی ہے، نہ کہ مال و دولت اور حسب و نسب، اس لیے اللہ تعالی کے ہاں کریم اور معزز وہ ہو گا، جو تقوی کے لباس سے مزین ہو گا۔