الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْكَفَائَةِ فِي النِّكَاحِ باب: نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
حدیث نمبر: 6904
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ يَرْفَعُ بِي خَسِيسَتَهُ، فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَنْ لَيْسَ لِلْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ.ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک نوجوان خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ نے اپنے بھتیجے سے میری شادی کر دی ہے، وہ میرے ساتھ شادی کو اس کے لیے سربلندی کا باعث بنانا چاہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس معاملے میں مجھے اختیار دے دیا، میں نے کہا: جو کچھ میرے باپ نے کیا ہے، میں اسی کو اختیار کرتی ہوں، لیکن میرا ارادہ یہ تھا کہ عورتوں کو علم ہو جانا چاہیے کہ ان کے اس معاملے میں ان کے آباء کا کوئی حق نہیں ہے۔