حدیث نمبر: 6901
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ اس کے با پ نے ایسے آدمی سے اس کی شادی کر دی ہے، جس کو وہ ناپسند کرتی ہے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دے دیا۔

وضاحت:
فوائد: … ولی کو مصلحت اور حکمت کے ساتھ بچیوں کے نکاح کے معاملات طے کرنے چاہئیں اور ایسی سبیل پیدا کرنی چاہیے کہ وہ بھی راضی ہو اور اس کی بچیاں بھی اسی کی رائے کو ترجیح دیتی ہوں، زبردستی کرتے ہوئے بچی کو بظاہر راضی تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی زندگی میں سکون نہیں لایا جا سکتا، بلکہ بعد میں اس لڑکے اور لڑکی دونوں کے والدین کو بھی سخت ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6901
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 2096، وابن ماجه: 1875 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2469»