حدیث نمبر: 6900
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ خِذَامًا أَبَا وَدِيعَةَ أَنْكَحَ ابْنَتَهُ رَجُلًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكَتْ إِلَيْهِ أَنَّهَا أُنْكِحَتْ وَهِيَ كَارِهَةٌ فَانْتَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا وَقَالَ لَا تُكْرِهُوهُنَّ قَالَ فَنَكَحَتْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَا لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَتْ ثَيِّبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابو ودیعہ خذام نے ایک آدمی سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا، لیکن وہ بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے یہ شکایت کی کہ اس کا نکاح کر دیا گیا ہے، جبکہ وہ ناپسند کر رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس خاوند سے علیحدہ کروا دیا اور فرمایا: عورتوں کو مجبور نہ کیا کرو۔ پھر اس نے ابو لبابہ انصاری سے شادی کر لی تھی، جبکہ وہ خاتون پہلے سے بیوہ تھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6900
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عطاء بن ابي مسلم الخراساني صاحب اوھام كثيرة، ثم ھو لم يسمع من ابن عباس، أخرجه عبد الرزاق: 10308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3440»