الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَزْوِيجِ الْآبِ بِنتَهُ الشَّيْبَ أَوِ الْبِكْرَ الْبَالِغَ بِغَيْرِ رَضَاهَا باب: باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 6899
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ وَكَانَتْ ثَيِّبًا فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے جس سے اس کی شادی کی، وہ اس کو ناپسند کرتی تھی، جبکہ وہ پہلے بیوہ بھی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نکاح ردّ کروادیا۔
وضاحت:
فوائد: … خاتون بیوہ ہو یا کنواری، نکاح میں اس کی رضامندی ضروری ہے، اس معاملے میں قطعی طور پر اس پر جبر نہیں کیا جا سکتا۔ نکاح میں عورت کی رضامندی شرط ہے، وگرنہ نکاح باطل ہو گا۔