حدیث نمبر: 6898
عَنْ حَجَّاجِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَدَّتَهُ أُمَّ السَّائِبِ خُنَاسَ بِنْتَ خِذَامِ بْنِ خَالِدٍ كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ قَبْلَ أَبِي لُبَابَةَ تَأَيَّمَتْ مِنْهُ فَزَوَّجَهَا أَبُوهَا خِذَامُ بْنُ خَالِدٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَأَبَتْ إِلَّا أَنْ تَحُطَّ إِلَى أَبِي لُبَابَةَ وَأَبَى أَبُوهَا إِلَّا أَنْ يَلْزِمَهَا الْعَوْفِيَّ حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هِيَ أَوْلَى بِأَمْرِهَا فَأَلْحِقْهَا بِهَوَاهَا قَالَ فَانْتُزِعَتْ مِنَ الْعَوْفِيِّ وَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ فَوَلَدَتْ لَهُ أَبَا السَّائِبِ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حجاج بن سائب سے مروی ہے کہ اس کی جدہ (دادی یا نانی) ام سائب خُناس بنت خذام ،ابو لبابہ کے زیر نکاح آنے سے پہلے ایک اور آدمی کی بیوی تھی، وہ آدمی فوت ہو گیا اور وہ بیوہ بن گئی، پھر اس کے باپ خذام نے بنو عمرو بن عوف بن خزرج کے ایک آدمی سے اس کی شادی کر دی، لیکن اس نے اس کے ہاں جانے سے انکار کر دیا اوراس کی یہی رٹ تھی کہ اس نے ابو لبابہ سے شادی کرنی ہے، مگر اس کا باپ اس چیز پر بضد تھا کہ یہ جائے گی تو صرف عوف قبیلہ کے آدمی کے گھر ہی جائے گی،یہاں تک کہ ان کا یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خاتون اپنے اس معاملے کی زیادہ حقدار ہے، اس لیے تو اس کی مرضی کے مطابق اس کی شادی کر دے۔ پس اس کو عوفی سے علیحدہ کر لیا گیا اور اس نے ابو لبابہ سے شادی کرلی، ان سے سائب بن ابی لبابہ پیدا ہوا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا صحیح سیاق اگلی حدیث میں مذکورہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6898
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة ، حجاج بن السائب من رجال ’’التعجيل‘‘، وقد تفرد بالرواية عنه ابن اسحاق، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وابن اسحاق مدلس وقد عنعن، واختلف عليه فيه، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 643، والدارقطني: 3/ 231، والبيھقي: 7/ 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27326»