الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَزْوِيجِ الْآبِ بِنتَهُ الشَّيْبَ أَوِ الْبِكْرَ الْبَالِغَ بِغَيْرِ رَضَاهَا باب: باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
عَنْ حَجَّاجِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَدَّتَهُ أُمَّ السَّائِبِ خُنَاسَ بِنْتَ خِذَامِ بْنِ خَالِدٍ كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ قَبْلَ أَبِي لُبَابَةَ تَأَيَّمَتْ مِنْهُ فَزَوَّجَهَا أَبُوهَا خِذَامُ بْنُ خَالِدٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَأَبَتْ إِلَّا أَنْ تَحُطَّ إِلَى أَبِي لُبَابَةَ وَأَبَى أَبُوهَا إِلَّا أَنْ يَلْزِمَهَا الْعَوْفِيَّ حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هِيَ أَوْلَى بِأَمْرِهَا فَأَلْحِقْهَا بِهَوَاهَا قَالَ فَانْتُزِعَتْ مِنَ الْعَوْفِيِّ وَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ فَوَلَدَتْ لَهُ أَبَا السَّائِبِ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ۔ حجاج بن سائب سے مروی ہے کہ اس کی جدہ (دادی یا نانی) ام سائب خُناس بنت خذام ،ابو لبابہ کے زیر نکاح آنے سے پہلے ایک اور آدمی کی بیوی تھی، وہ آدمی فوت ہو گیا اور وہ بیوہ بن گئی، پھر اس کے باپ خذام نے بنو عمرو بن عوف بن خزرج کے ایک آدمی سے اس کی شادی کر دی، لیکن اس نے اس کے ہاں جانے سے انکار کر دیا اوراس کی یہی رٹ تھی کہ اس نے ابو لبابہ سے شادی کرنی ہے، مگر اس کا باپ اس چیز پر بضد تھا کہ یہ جائے گی تو صرف عوف قبیلہ کے آدمی کے گھر ہی جائے گی،یہاں تک کہ ان کا یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خاتون اپنے اس معاملے کی زیادہ حقدار ہے، اس لیے تو اس کی مرضی کے مطابق اس کی شادی کر دے۔ پس اس کو عوفی سے علیحدہ کر لیا گیا اور اس نے ابو لبابہ سے شادی کرلی، ان سے سائب بن ابی لبابہ پیدا ہوا تھا۔