الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ اسْتِثْمَارِ النِّسَاءِ فِي بَنَاتِهِنَّ باب: عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ وَاسْمُهُ الَّذِي يُعْرَفُ بِهِ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ صَالِحًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اخْطُبْ عَلَى ابْنَةِ صَالِحٍ فَقَالَ إِنَّ لَهُ يَتَامَى وَلَمْ يَكُنْ لِيُؤْثِرَنَا عَلَيْهِمْ قَالَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عَمِّهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِيَخْطُبَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ يَخْطُبُ ابْنَتَكَ فَقَالَ لِي يَتَامَى وَلَمْ أَكُنْ لِأَتْرِبَ لَحْمِي وَأَرْفَعَ لَحْمَكُمْ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَنْكَحْتُهَا فُلَانًا وَكَانَ هَوَى أُمِّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ابْنَتِي فَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا يَتِيمًا فِي حَجْرِهِ وَلَمْ يُؤَامِرْهَا فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ أَنَكَحْتَ ابْنَتَكَ وَلَمْ تُؤَامِرْهَا فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ وَهِيَ بِكْرٌ فَقَالَ صَالِحٌ فَإِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِمَا يُصْدِقُهَا ابْنُ عُمَرَ فَإِنَّ لَهُ فِي مَالِي مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، صالح کی بیٹی کو منگنی کا پیغام بھیجیں۔ صالح، نُعیم بن نحام کے نام سے معروف تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام صالح رکھا تھا، انہوں نے کہا: صالح کے ہاں یتیم بچے زیر پرورش ہیں، وہ انہیں چھوڑنا گوارا نہیں کرے گا، نکاح کے لئے انہیں ترجیح دے گا۔ یہ بات سن کر سیدنا عبد اللہ اپنے چچا زید بن خطاب کے پاس گئے تاکہ وہ منگنی کا پیغام دیں۔ چنانچہ زید، صالح کے پاس گئے اور کہا: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتاہے، اس نے کہا: میرے زیر پرورش یتیم بچے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ اپنی توہین کر دوں اور تمہیں عزت دوں، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے فلاں سے فلاں کا نکاح کر دیا ہے، مگر اس عورت کی ماں کا میلان سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی جانب تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے نبی! عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے میری بیٹی کیلئے پیغام نکاح بھیجا تھا، لیکن صالح نے زیر پرورش ایک یتیم سے اس کا نکاح کر دیا اور مجھ سے مشورہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صالح کو پیغام بھیجا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تو نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے اور بیوی سے مشوہ ہی نہیں کیا۔ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے مشورہ کیا کرو۔ جبکہ بچی کنواری ہو۔ صالح نے کہا: میں نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہمانے اس کے مہر کی جو مقدار رکھی، اتنی مقدار تو میرے مال سے یتیم کا حصہ بنتی تھی، اس لیے میں نے پھر اسی کو ترجیح دی۔