حدیث نمبر: 6892
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ وَفِي لَفْظٍ سَبْعِ سِنِينَ بِمَكَّةَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ وَدَخَلَ بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی، ایک روایت میں سات برس کا ذکر ہے، یہ نکاح مکہ میں اور سیدنا خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے موقع پر ہوا تھا، اور جب میری رخصتی ہوئی تو میری عمر نو برس تھی، رخصتی مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … نکاح کے وقت سیدہ کی عمر چھ برس اور کچھ ماہ تھی، اسی لیے کبھی اس کسر کو پورا کر کے سات سال کہہ دیا جاتا ہے اور کبھی اس کو چھوڑ کر چھ برس کہا جاتا ہے، ۲؁ھمیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی تھی۔
ہجرت سے ایک سال پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تھا۔
اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کنواری ہو، یا مطلقہ، یا بیوہ، اس کے نکاح کی درستی کے لیے ولی کی رضامندی ضروری ہے، جیسے کہ سابق باب میں وضاحت ہو چکی ہے، البتہ بیوہ اور مطلقہ کو اپنے رائے دینے کا حق ضرور ہے اور ولی کو چاہیے کہ وہ ان کی رائے کا لحاظ کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6892
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3894، 5133، 5134، ومسلم: 1422، ابوداود!: 4933، 4934 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25379»