حدیث نمبر: 6891
عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَارِيَةٍ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهُ فَإِنَّهَا تَسْتَحْيِي فَتَسْكُتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَلِكَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَكَتَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مولائے عائشہ ذکوان سے مروی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ایک لڑکی کے گھر والے اس کا نکاح کرتے ہیں، کیا اس لڑکی سے مشورہ کیا جائے گا یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل مشورہ طلب کیا جائے گا۔ میں نے کہا : وہ شرم کے مارے خاموش ہو جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6891
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1420، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25838»