الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي إِجْبَارِ الْبِكْرِ وَاسْتَثَمَارِ التَّيبِ باب: کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى خِدْرِهَا فَقَالَ إِنَّ فُلَانًا يَذْكُرُ فُلَانَةً يُسَمِّيهَا وَيُسَمِّي الرَّجُلَ الَّذِي يَذْكُرُهَا فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ زَوَّجَهَا وَإِنْ كَرِهَتْ نَقَرَتِ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْهُ لَمْ يُزَوِّجْهَا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے تو گھر کے کونے میں اس کے پاس لٹکے ہوئے پردے کے پاس بیٹھ جاتے اور فرماتے: فلاں آدمی فلاں خاتون کا ذکر کر رہا تھا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مرد اور اس بیٹی کا نام ذکر کرتے، اگر وہ خاموش رہتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا نکاح کر دیتے اور اگر وہ ناپسند کرتی تو اپنا ہاتھ پردے پر مارتی، پس اگر وہ اپنا ہاتھ پردے پر مار دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا نکاح نہ کرتے۔