الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي إِجْبَارِ الْبِكْرِ وَاسْتَثَمَارِ التَّيبِ باب: کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6885
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری کا باپ اس سے اس کے نفس کے بارے میں اجازت لے گا اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے پہلے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ بیوہ کا بھی حق ہے اور اس کے ولی کا بھی حق ہے، ولی کا حق یہ ہے کہ اس کے واسطے کے بغیر نکاح نہ کیا جائے اور بیوہ کا حق یہ ہے کہ جب وہ کسی شخص کو بطورِ خاوند قبول نہ کرے تو اس کو مجبور نہ کیا جائے، کیونکہ اب اس معاملے میں بیوہ کا حق زیادہ ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھیں کہ ولی نے ایسی خاتون کی کسی مرد سے شادی کرنا چاہی، لیکن وہ رضامند نہ ہوئی تو اس کو مجبور نہیں کیا جائے گا اور ولی اپنا ارادہ ترک کر دے، لیکن جب ایسی خاتون کسی مرد سے شادی کرنے پر رضامند ہو جائے گی اور ولی رضامند نہیں ہو گا تو ولی کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ رضامندی کا اظہار کرے اور اس کی شادی کر دے۔