الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي إِجْبَارِ الْبِكْرِ وَاسْتَثَمَارِ التَّيبِ باب: کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6884
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری بچی سے اس کے نفس کے بارے میں اس سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت خاموشی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں لفظ ’’احق‘‘ میںمشارکت پائی جاتی ہے، یعنی نکاح میں شوہر دیدہ کا حق بھی ہے اور ولی کا بھی اور عورت کے حق کی زیادہ اہمیت ہے، بہرحال دونوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔
نیز درج ذیل حدیث سے ’’احق بنفسھا‘‘ کے معنی کی وضاحت ہو تی ہے۔
سیدنا عدی کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِی أَنْفُسِھِنَّ۔)) فَقَالَ: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الثَّیِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِھَا بِلِسَانِھَا، وَالْبِکْرُ رِضَاھَا صُمَاتُھَا۔)) (صحیحہ: ۱۴۵۹) … ’’عورتوں سے ان کے نفسوںکے بارے میں مشورہ کیا کرو۔‘‘ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری لڑکی تو شرماتی ہے (اس سے مشورہ کیسے کیا جائے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیوہ تو اپنے بارے میں خود وضاحت کرتی ہے اور کنواری کی رضامندی اس کا خاموش ہو جانا ہے۔‘‘
نیز درج ذیل حدیث سے ’’احق بنفسھا‘‘ کے معنی کی وضاحت ہو تی ہے۔
سیدنا عدی کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِی أَنْفُسِھِنَّ۔)) فَقَالَ: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الثَّیِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِھَا بِلِسَانِھَا، وَالْبِکْرُ رِضَاھَا صُمَاتُھَا۔)) (صحیحہ: ۱۴۵۹) … ’’عورتوں سے ان کے نفسوںکے بارے میں مشورہ کیا کرو۔‘‘ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری لڑکی تو شرماتی ہے (اس سے مشورہ کیسے کیا جائے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیوہ تو اپنے بارے میں خود وضاحت کرتی ہے اور کنواری کی رضامندی اس کا خاموش ہو جانا ہے۔‘‘