الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَمَا جَاءَ فِي زِوَاجِ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إذن سَيّدِهِ باب: ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6882
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ أَوْ أَهْلِهِ فَهُوَ عَاهِرٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جو غلام بھی اپنے مالک یا گھر والوں کی اجازت کے بغیر شادی کرے گا، وہ زانی ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … نکاح کے لیے ولی کا ہونا شرط ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا کئی احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔
البتہ امام ابو حنیفہ نے ولی کی اجازت کو ضروری نہیں قرار دیا، لیکنیہ رائے اس باب کی احادیث کی روشنی میں درست نہیں ہے اور اس رائے کے حق میں کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ولی سے مراد عصبہ رشتہ دار ہیں، جن میں سب سے پہلے باپ ہے، باپ کی غیر موجودگی میں دادا، پھر بھائی اور پھر چچا ہے، اگر کسی عورت کے دو یا زائد ولی ہوں اور نکاح کے موقع پر اختلاف واقع ہو جائے تو قریبی ولی کو ترجیح ہو گی، اور اگر دونوں ولی برابر حیثیت کے ہوں تو اختلاف کی صورت میں حاکم ولی ہو گا۔
قرآن اور حدیث دونوں میں کنواری عورت کی طرح بیوہیا مطلقہ عورت بھی اپنے اولیاء کے ماتحت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ} (سورۂ بقرہ: ۲۳۲) … ’’اگر وہ عورتیں اپنے (پہلی اور دوسری طلاق کی عدت گزر جانے کے بعد اپنے سابقہ خاوندوں سے) نکاح کرنا چاہیں تو تم انھیں مت روکو۔‘‘
اس آیت میں مطلقہ عورتوں، جن کی عدت گزر چکی ہو، کے اولیاء کو حکم دیا جار ہا ہے کہ اگر وہ اپنے سابقہ خاوندوں سے نکاح کرنے پر راضی ہو جائیں تو اولیاء کو چاہئے کہ وہ نکاح کر دیا کریں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ایسی عورت کو اولیاء روک بھی سکتے ہے۔ نیز صحیح بخاری کی روایت کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب ایک بھائی نے اپنی مطلقہ بہن کا سابقہ خاوند سے دوبارہ نکاح کرنے سے انکار کر دیا تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے دوبارہ نکاح کروا دیا۔ امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: ’’بَاب مَنْ قَالَ لَا نِکَاحَ إِلَّا بِوَلِیٍّ لِقَوْلِ اللَّہِ تَعَالٰی {فَـلَا تَعْضُلُوہُنَّ} فَدَخَلَ فِیہِ الثَّیِّبُ وَکَذَلِکَ الْبِکْرُ وَقَالَ: {وَلَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِینَ حَتّٰییُؤْمِنُوا} وَقَالَ: {وَأَنْکِحُوا الْأَیَامٰی مِنْکُمْ} امام اس باب میںیہ تین آیات بیان کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ولی کو بچی کے نکاح میں اختیار حاصل ہے، تبھی تو اللہ تعالی ان کو یہ حکم دے رہا ہے۔ ‘‘
ولی کی شرط کے بارے میں دو آیات اور ان کی وضاحت: ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا تُنْکِحُوْا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰییُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَلَوْ اَعْجَبَکُمْ} … ’’اور مشرکین کو اپنی بچیوں کا نکاح کر کے نہ دو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں اور البتہ غلام مؤمن مشرک سے بہتر ہے، اگرچہ وہ اچھا لگے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۲۱)
امام قرطبی نے اس آیت کی تفسیر میں کہا: فی ھذہ الآیۃ دلیل بالنص علی ان لا نکاح الا بولی۔ … یہ آیت اس بارے میں نص ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں (تبھی تو اولیاء کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی بچیوں کا مشرک سے نکاح نہ کریں)۔ (تفسیر قرطبی: ۳/ ۴۹)
اللہ تعالی نے فرمایا: {وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَـلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اَذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ} … ’’اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں ان کے پہلے والے خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو، جب وہ آپس میں اچھے طریقے سے راضی ہو جائیں۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۲)
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک صحابی نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کیا، لیکن اس نے اس کو طلاق دے دی،یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو گئی، جب عدت گزر گئی تو اسی صحابی نے دوبارہ پیغامِ نکاح بھیجا، لیکن بھائی آڑے آ گیا اور اس نے اپنی بہن کا نکاح کرنے سے انکار کردیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حافظ ابن حجر نے کہا: ’’وہی أصرح دلیل علی اعتبار الولی وإلا لما کان لعضلہ معنی ولانہا لو کان لہا أن تزوج نفسہا لم تحتج إلی أخیہا ومن کان أمرہ إلیہ لا یقال أن غیرہ منعہ منہ۔‘‘ … یہ آیت ولی کے معتبر ہونے پر سب سے زیادہ واضح دلیل ہے اور اگر ولی کا اعتبار نہ ہوتا تو اس کو روکنے کا کوئی معنی باقی نہیں رہتا، اگر سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کی بہن کے لیے اپنا نکاح خود کرنا جائز ہوتا تو وہ اپنے بھائی کی محتاج نہ ہوتی اور اختیار جس کے ہاتھ میں ہو اس کے بارے میںیہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے غیر نے اس کو روک دیا ہے۔‘‘ (فتح الباری: ۹/ ۹۴)
لڑکیوں کا گھروں سے فرار ہو کر اور عدالت میں جا کر اپنے عاشقوں سے شادی عصر حاضر کا بہت بڑا فتنہ ہے اور چھپییاری کی حوصلہ افزائی ہے، اس سے نہ صرف والدین کی ذلت و رسوائی لازم آتی ہے، بلکہ معاشرے کی ساری فضا متأثر ہوتی ہے، جبکہ یہ نکاح فاسد ہوتا ہے۔
ولی کی اجازت کے ساتھ ساتھ درج ذیل احادیث ِ مبارکہ میں اسلام کا انتہائی معتدل اور عدیم النظیرقانون پیش کیا گیا ہے، سلسلۂ نکاح میںجہاں اولیاء کی رضامندی ضروری ہے، وہاں لڑکی کو کسی صورت میں بے اختیار نہیں سمجھا جا سکتا ہے، بلکہ رفیقِ حیات کے انتخاب میں اس کی پسند یا عدم پسند کا مکمل لحاظ رکھا جائے گا۔
البتہ امام ابو حنیفہ نے ولی کی اجازت کو ضروری نہیں قرار دیا، لیکنیہ رائے اس باب کی احادیث کی روشنی میں درست نہیں ہے اور اس رائے کے حق میں کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ولی سے مراد عصبہ رشتہ دار ہیں، جن میں سب سے پہلے باپ ہے، باپ کی غیر موجودگی میں دادا، پھر بھائی اور پھر چچا ہے، اگر کسی عورت کے دو یا زائد ولی ہوں اور نکاح کے موقع پر اختلاف واقع ہو جائے تو قریبی ولی کو ترجیح ہو گی، اور اگر دونوں ولی برابر حیثیت کے ہوں تو اختلاف کی صورت میں حاکم ولی ہو گا۔
قرآن اور حدیث دونوں میں کنواری عورت کی طرح بیوہیا مطلقہ عورت بھی اپنے اولیاء کے ماتحت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ} (سورۂ بقرہ: ۲۳۲) … ’’اگر وہ عورتیں اپنے (پہلی اور دوسری طلاق کی عدت گزر جانے کے بعد اپنے سابقہ خاوندوں سے) نکاح کرنا چاہیں تو تم انھیں مت روکو۔‘‘
اس آیت میں مطلقہ عورتوں، جن کی عدت گزر چکی ہو، کے اولیاء کو حکم دیا جار ہا ہے کہ اگر وہ اپنے سابقہ خاوندوں سے نکاح کرنے پر راضی ہو جائیں تو اولیاء کو چاہئے کہ وہ نکاح کر دیا کریں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ایسی عورت کو اولیاء روک بھی سکتے ہے۔ نیز صحیح بخاری کی روایت کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب ایک بھائی نے اپنی مطلقہ بہن کا سابقہ خاوند سے دوبارہ نکاح کرنے سے انکار کر دیا تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے دوبارہ نکاح کروا دیا۔ امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: ’’بَاب مَنْ قَالَ لَا نِکَاحَ إِلَّا بِوَلِیٍّ لِقَوْلِ اللَّہِ تَعَالٰی {فَـلَا تَعْضُلُوہُنَّ} فَدَخَلَ فِیہِ الثَّیِّبُ وَکَذَلِکَ الْبِکْرُ وَقَالَ: {وَلَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِینَ حَتّٰییُؤْمِنُوا} وَقَالَ: {وَأَنْکِحُوا الْأَیَامٰی مِنْکُمْ} امام اس باب میںیہ تین آیات بیان کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ولی کو بچی کے نکاح میں اختیار حاصل ہے، تبھی تو اللہ تعالی ان کو یہ حکم دے رہا ہے۔ ‘‘
ولی کی شرط کے بارے میں دو آیات اور ان کی وضاحت: ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا تُنْکِحُوْا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰییُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَلَوْ اَعْجَبَکُمْ} … ’’اور مشرکین کو اپنی بچیوں کا نکاح کر کے نہ دو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں اور البتہ غلام مؤمن مشرک سے بہتر ہے، اگرچہ وہ اچھا لگے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۲۱)
امام قرطبی نے اس آیت کی تفسیر میں کہا: فی ھذہ الآیۃ دلیل بالنص علی ان لا نکاح الا بولی۔ … یہ آیت اس بارے میں نص ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں (تبھی تو اولیاء کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی بچیوں کا مشرک سے نکاح نہ کریں)۔ (تفسیر قرطبی: ۳/ ۴۹)
اللہ تعالی نے فرمایا: {وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَـلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اَذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ} … ’’اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں ان کے پہلے والے خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو، جب وہ آپس میں اچھے طریقے سے راضی ہو جائیں۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۲)
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک صحابی نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کیا، لیکن اس نے اس کو طلاق دے دی،یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو گئی، جب عدت گزر گئی تو اسی صحابی نے دوبارہ پیغامِ نکاح بھیجا، لیکن بھائی آڑے آ گیا اور اس نے اپنی بہن کا نکاح کرنے سے انکار کردیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حافظ ابن حجر نے کہا: ’’وہی أصرح دلیل علی اعتبار الولی وإلا لما کان لعضلہ معنی ولانہا لو کان لہا أن تزوج نفسہا لم تحتج إلی أخیہا ومن کان أمرہ إلیہ لا یقال أن غیرہ منعہ منہ۔‘‘ … یہ آیت ولی کے معتبر ہونے پر سب سے زیادہ واضح دلیل ہے اور اگر ولی کا اعتبار نہ ہوتا تو اس کو روکنے کا کوئی معنی باقی نہیں رہتا، اگر سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کی بہن کے لیے اپنا نکاح خود کرنا جائز ہوتا تو وہ اپنے بھائی کی محتاج نہ ہوتی اور اختیار جس کے ہاتھ میں ہو اس کے بارے میںیہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے غیر نے اس کو روک دیا ہے۔‘‘ (فتح الباری: ۹/ ۹۴)
لڑکیوں کا گھروں سے فرار ہو کر اور عدالت میں جا کر اپنے عاشقوں سے شادی عصر حاضر کا بہت بڑا فتنہ ہے اور چھپییاری کی حوصلہ افزائی ہے، اس سے نہ صرف والدین کی ذلت و رسوائی لازم آتی ہے، بلکہ معاشرے کی ساری فضا متأثر ہوتی ہے، جبکہ یہ نکاح فاسد ہوتا ہے۔
ولی کی اجازت کے ساتھ ساتھ درج ذیل احادیث ِ مبارکہ میں اسلام کا انتہائی معتدل اور عدیم النظیرقانون پیش کیا گیا ہے، سلسلۂ نکاح میںجہاں اولیاء کی رضامندی ضروری ہے، وہاں لڑکی کو کسی صورت میں بے اختیار نہیں سمجھا جا سکتا ہے، بلکہ رفیقِ حیات کے انتخاب میں اس کی پسند یا عدم پسند کا مکمل لحاظ رکھا جائے گا۔