الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَمَا جَاءَ فِي زِوَاجِ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إذن سَيّدِهِ باب: ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6881
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَإِذَا بَاعَ مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوْ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا قَالَ أَبِي وَقَالَ يُونُسُ وَإِذَا بَاعَ الرَّجُلُ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ایک عورت کا نکاح دو ولی کر دیں تو پہلے ولی کا نکاح معتبر ہو گا، اسی طرح جب کوئی آدمی ایک چیز دو آدمیوں کو فروخت کر دے، تو وہ پہلے کی ہو گی۔ یونس راوی کے الفاظ یہ ہیں: جب آدمی دو بندوں سے بیع کر دے۔