الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَمَا جَاءَ فِي زِوَاجِ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إذن سَيّدِهِ باب: ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6878
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہے اور جس کا کوئی ولی نہ ہو، سلطان اس کا ولی ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … امام حاکم نے ’’لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِیٍّ‘‘ والی روایات ذکر کرنے کے بعد کہا: و فی الباب عن علی بن أبی طالب و عبد اللہ بن عباس و معاذ بن جبل و عبد اللہ بن عمر و أبی ذر الغفاری و المقداد بن الأسود و عبد اللہ بن مسعود و جابر بن عبد اللہ و أبی ہریرۃ و عمران بن حصین و عبد اللہ بن عمرو و المسور بن مخرمۃ و أنس بن مالک رضی اللہ عنہم و أکثرہا صحیحۃ و قد صحت الروایات فیہ عن أزواج النبی صلی اللہ علیہ و سلم عائشۃ و أم سلمۃ و زینب بنت جحش رضی اللہ عنہم أجمعین۔ … اس باب میں سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا ابو ذر غفاری، سیدنا مقداد بن اسود، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا جابر بن عبد اللہ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا عمران بن حصین، سیدنا عبد اللہ بن عمرو، سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا انس بن مالک eسے احادیث مروی ہیں، ان میں سے زیادہ تر صحیح ہیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے سیدہ عائشہ، سیدہ ام سلمہ اور سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن سے احادیث مروی ہیں۔ (مستدرک:۲/۱۸۸)