الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَمَا جَاءَ فِي زِوَاجِ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إذن سَيّدِهِ باب: ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا نَكَحَتِ الْمَرْأَةُ بِغَيْرِ أَمْرِ مَوْلَاهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ)) قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَلَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ قَالَ: وَكَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى وَكَانَ فَأَثْنَى عَلَيْهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي: السُّلْطَانُ الْقَاضِي لِأَنَّ إِلَيْهِ أَمْرَ الْفُرُوجِ وَالْأَحْكَامِ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا،اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر اس آدمی نے اس عورت سے جماع کر لیا،تو اس کو اس جماع کی وجہ سے اسے مہر دینا ہو گا، اگر وہ اختلاف میں پڑ جائیں تو جس کا کوئی ولی نہیں ہو گا، سلطان اس کا ولی ہو گا۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں امام زہری سے ملا اور اس حدیث کے بارے میں پوچھا، لیکن وہ اس حدیث کو نہ پہنچان سکے،انھوں نے کہا: اور سلیمان بن موسی، پھر انھوں نے اس کی تعریف کی، عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ امام احمد نے کہا: سلطان سے مراد قاضی ہے، کیونکہ عصمتوں سے متعلقہ معاملات اور احکام قاضی کی عدالت میں ہی پیش کیے جاتے ہیں۔