الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ النَّظْرِ إِلَى الْمَخْطُوبَةِ باب: منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 6876
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً، فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو منگنی کا پیغام بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو اس عورت دیکھ لے، کیونکہ عموماً انصار کی آنکھوں میں کوئی نقص ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نقص سے مراد کوئی ایسا عیب ہے، جس کی وجہ سے انسان طبعی طور پر متنفر ہو سکتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ مرد ایسی خاتون کو دیکھ لے، تاکہ اس کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے۔
نکاح ایک اہم ضرورت ہے، نیز ساری زندگی کا ساتھ ہے، اس لیے کسی ممکنہ بدمزگی سے بچنے کے لیے مناسب ہے کہ پہلے اسے دیکھ لیا جائے، اس مقصد کے لیے کوئی حیلہ بہانہ استعمال کیا جا سکتا ہے، یا پھر گھریلوں عورتوں کے ذریعے دیکھنے دکھانے اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرکے اندازہ کر لیا جائے۔
میاں بیوی کے مابین اچھے تعلقات، بہترین معاشرے اور خاندان کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں شریعت نے مردوں کے لیے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا حرام قرار دیا ہے، وہاں کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے جواز کی گنجائش بھی پیدا کر دی ہے، اس سلسلے میں دونوں اطراف سے والدین کو دور رسی اور دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے لڑکی
اور لڑکے کی ملاقات اور ان کی رضامندی کا خیال رکھنا چاہیے۔
پاکستان کے حالات کے مطابق لڑکے کا لڑکی کو پسند نہ کرنابچی کے لیے کسی قیامت صغری سے کم نہیں ہوتا، ایسے حالات میں منگیتر کو بچی دیکھنے کا موقع دیا جائے، اگرچہ بچی کے والدین اور بھائی وغیرہ باخبر نہ ہوں، تاکہ کسی کی حوصلہ شکنی کیے بغیر شریعت کی رخصت پر عمل ہو جائے، جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایک لڑکی کو نکاح کا پیغام بھیجا اور چھپ کر اس کو دیکھ لیا۔ اس سلسلے میں بچی کی سہیلیاں اور دور کی رشتہ دار عورتیں اچھا کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ خیرخواہ اور راز دار ہوں، اگر متعلقہ بچی کو بھی آگاہ نہ کیا جائے تو بہتر ہو گا تاکہ پسند نہ آنے کی صورت میں اس کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔
نکاح ایک اہم ضرورت ہے، نیز ساری زندگی کا ساتھ ہے، اس لیے کسی ممکنہ بدمزگی سے بچنے کے لیے مناسب ہے کہ پہلے اسے دیکھ لیا جائے، اس مقصد کے لیے کوئی حیلہ بہانہ استعمال کیا جا سکتا ہے، یا پھر گھریلوں عورتوں کے ذریعے دیکھنے دکھانے اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرکے اندازہ کر لیا جائے۔
میاں بیوی کے مابین اچھے تعلقات، بہترین معاشرے اور خاندان کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں شریعت نے مردوں کے لیے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا حرام قرار دیا ہے، وہاں کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے جواز کی گنجائش بھی پیدا کر دی ہے، اس سلسلے میں دونوں اطراف سے والدین کو دور رسی اور دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے لڑکی
اور لڑکے کی ملاقات اور ان کی رضامندی کا خیال رکھنا چاہیے۔
پاکستان کے حالات کے مطابق لڑکے کا لڑکی کو پسند نہ کرنابچی کے لیے کسی قیامت صغری سے کم نہیں ہوتا، ایسے حالات میں منگیتر کو بچی دیکھنے کا موقع دیا جائے، اگرچہ بچی کے والدین اور بھائی وغیرہ باخبر نہ ہوں، تاکہ کسی کی حوصلہ شکنی کیے بغیر شریعت کی رخصت پر عمل ہو جائے، جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایک لڑکی کو نکاح کا پیغام بھیجا اور چھپ کر اس کو دیکھ لیا۔ اس سلسلے میں بچی کی سہیلیاں اور دور کی رشتہ دار عورتیں اچھا کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ خیرخواہ اور راز دار ہوں، اگر متعلقہ بچی کو بھی آگاہ نہ کیا جائے تو بہتر ہو گا تاکہ پسند نہ آنے کی صورت میں اس کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔