الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ النَّظْرِ إِلَى الْمَخْطُوبَةِ باب: منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا، فَقَالَ: ((اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا))، قَالَ: فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ، قَالَ: فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ فَانْظُرْ وَإِلَّا فَإِنِّي أَنْشُدُكَ، كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَتَزَوَّجْتُهَا فَذُكِرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک عورت کا ذکر کیا کہ میں اس کو منگنی کا پیغام بھیجنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، پہلے اسے دیکھ کر آؤ،پس زیادہ لائق ہو گا کہ یہ چیز تمہارے درمیان محبت اور اتفاق کا باعث ہو۔ میں اس انصاری خاتون کے پاس گیا اور اس کے والدین کو منگنی کا پیغام دیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بھی سنا دیا۔ ایسے لگا کہ وہ اس چیز کو پسند نہیں کر رہے کہ میں اس کو دیکھو، لیکن اس عورت نے پسِ پردہ آواز سن لی اور اس نے کہا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے دیکھنے کا حکم دیا ہے تو دیکھ لے، وگرنہ میں تجھے قسم دیتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، پس میں نے اس کو دیکھا اور اس سے شادی کر لی، پس اس میاں بیوی کی موافقت کی باتیں کی گئیں۔